الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ باب: نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1068
عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَٰذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ، فَقَالَ لِي: ((إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ)) قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ((صَلَاةُ الْغَدَاةِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا فضالہ لیثی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تعلیم دی اور اوقات سمیت پانچ نمازیں سکھائیں، لیکن میں نے کہا: یہ تو میری مصروفیت کی گھڑیاں ہیں، آپ مجھے اس سے مختصر حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو مصروف رہتا ہے تو تجھے دو عصروں سے مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا: دو عصریں کون سی ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ فجر اور نمازِ عصر۔