حدیث نمبر: 10648
عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَّانَ الْقَاصِّ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حِيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةٍ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ((أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ)) قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَةِ)) يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَنِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10648
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع، أخرجه الطيالسي: 2277، والبزار: 1750، 3521 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6890»