الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَقَاءِ ثَوَابِ الْهِجْرَةِ لِمَنْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ الْفَتْحِ وَإِنْ أَقَامَ فِي غَيْرِهَا بَعْدُ باب: فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ فَقَالَ جَابِرٌ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْدُوا يَا أَسْلَمُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا فَقَالَ ((إِنَّكُمْ أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ))۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔