حدیث نمبر: 10647
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ فَقَالَ جَابِرٌ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْدُوا يَا أَسْلَمُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا فَقَالَ ((إِنَّكُمْ أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہجرت کا ثواب ملے گا، اگرچہ وہ اس شہر میں سکونت اختیار نہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10647
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 6/ 166، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1731 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14953»