الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَقَاءِ ثَوَابِ الْهِجْرَةِ لِمَنْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ الْفَتْحِ وَإِنْ أَقَامَ فِي غَيْرِهَا بَعْدُ باب: فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَيَّاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحَصِيبِ فَقَالَ ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْدُوا يَا أَسْلَمُ تَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ)) فَقَالُوا إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا فَقَالَ ((أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ))۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔