الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ يَعْنِي فَتَحَ مَكَّةَ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ} قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ ((النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ)) وَقَالَ ((لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ)) فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدُّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا صَدَقَ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورۂ نصر {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مکمل تلاوت کی اور پھر فرمایا: لوگ ایک فریق ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک فریق ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔ مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، جبکہ اس کے پاس سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے اور وہ اس کے پاس تخت پر بیٹے ہوئے تھے، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اگر یہ دو چاہیں تو یہ بھی تجھے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں، لیکن یہ اپنی قوم کی ریاست چھن جانے سے ڈرتا ہے اور اس کو زکوۃ و صدقات کی وصول کا عہد ہ چھن جانے کا ڈر ہے، پس وہ دونوں خاموش رہے، لیکن جب مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو کوڑا مارنے کے لیے اٹھایا اور انھوں نے اس کاروائی کو دیکھا تو کہا: ابوسعید خدری سچ کہہ رہے ہیں۔