الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ يَعْنِي فَتَحَ مَكَّةَ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ((وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا))۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔