حدیث نمبر: 10643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ((وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا)) قَالَ نَعَمْ قَالَ ((فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ آدمی ہجرت کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس کو اس معاملے میں نہ پڑنے کی اجازت دے دی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے تھے، تمام علمائے کرام اور مبلغین اسلام کو مصلحت و حکمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن عوام الناس سے گزارش ہو گی کہ وہ صرف رخصت والی نصوص کو سامنے رکھ کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں، عزیمت والی نصوص کا بھی خیال رکھیں، پھر اگر واقعی کوئی معذور ہو تو رخصت پر عمل کر لے۔ اس مقام پر عطیے سے مراد وہ جانور ہے، جو کسی کو واپسی کی شرط پر کسی ضرورت کے لیے دیا جائے کہ وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد لوٹا دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10643
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1452، 3923، 6165، ومسلم: 1865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11121»