حدیث نمبر: 10642
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ ((لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ)) قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ ((إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچ جائیں گے، اگرچہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو اس کے نیک عمل کا صلہ دیا جائے گا، اگر اس میں دار الکفر سے ہجرت کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ کے کامل اجر کا مستحق ہو گا اور جو استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا، یہ اس کی نافرمانی ہو گی، ممکن ہے کہ وہ اس ایک نافرمانی کی وجہ سے کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے، بہرحال اس کو اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10642
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16886»