حدیث نمبر: 10638
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا وَفِي لَفْظٍ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا فَقُلْتُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ قَالَ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا ، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10638
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15945»