حدیث نمبر: 10632
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا لَهُ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَقَالَ حَاجَتُكَ قَالَ حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي أَنْقَضَتِ الْهِجْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو مالک بن حنبل کا ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، چونکہ وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، اس لیے لوگوں نے اس سے کہا: تو ہمارے کجاووں اور سامانِ سفر کی حفاظت کر، پھر اندر آ جانا، پس اس نے ان کی ضرورت پوری کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: اب تو اندر چلا جا، پس اندر داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت منقطع ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری ضرورت باقی لوگوں کی ضرورتوں سے بہتر ہے، جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … دشمن سے لڑائی جاری رہنے کا مطلب یہ ہو گا کہ دار الکفر موجود ہے اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میںپہنچے، اگر اس کو طاقت ہوتو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22680»