الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ طُولِ الْقِيَامِ وَكَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ: ((أَلَكَ حَاجَةٌ؟)) قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَاجَتِي، قَالَ: ((وَمَا حَاجَتُكَ؟)) قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: ((وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَٰذَا؟)) قَالَ: رَبِّي، قَالَ: ((فَإِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ))مولائے بنو مخزوم زیادبن ابو زیاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم یا خادمہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خادم سے کہا کرتے تھے: کیا تیری کوئی ضرورت ہے؟ ایک دن اس خادم نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن میری سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور کس نے اس چیز پر تیری رہنمائی کی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس ضرورت کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو کثرت ِ سجود کے ذریعے میری مدد کر۔