حدیث نمبر: 10629
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ فَقَامَ ذَلِكَ أَوْ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي فَهِجْرَةُ الْبَادِي أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ وَالْحَاضِرُ أَعْظَمُهَا بَلِيَّةً وَأَفْضَلُهَا أَجْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی اٹھا اور اس نے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل اسلام یہ ہے کہ تیرے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سالم رہیں۔ وہی صحابی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے پروردگار کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا، دراصل ہجرت کی دو قسمیں ہیں: (ا) دیہاتی لوگوں کی ہجرت (۲) شہری لوگوں کی ہجرت۔ دیہاتی کی ہجرت یہ کہ جب اسے امیر کی طرف سے حکم دیا جائے تو وہ اسے تسلیم کرے اور جب اسے بلایا جائے تو بلاوے کا جواب دے‘ رہا مسئلہ شہری کی ہجرت کا تو اس کی مصیبت و آزمائش زیادہ سخت اور اجر عظیم ہے۔

وضاحت:
فوائد: … شہر میں رہنے کے تقاضے زیادہ ہیں، مثلا جب جہاد کی ضرورت پڑے تو فوراً لبیک کہنا، دشمنوں کا شہروں پر حملہ کرنے کو ترجیح دینا اور ان کو اذیت پہنچانے کی کوشش میںلگے رہنا، مزید بھی کئی وجوہات پائی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/11، وابن حبان: 5176 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6487»