الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا وَأَى الْهَجْرَةِ أَفْضَلُ باب: ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ فَقَامَ ذَلِكَ أَوْ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي فَهِجْرَةُ الْبَادِي أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ وَالْحَاضِرُ أَعْظَمُهَا بَلِيَّةً وَأَفْضَلُهَا أَجْرًا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی اٹھا اور اس نے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل اسلام یہ ہے کہ تیرے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سالم رہیں۔ وہی صحابی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے پروردگار کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا، دراصل ہجرت کی دو قسمیں ہیں: (ا) دیہاتی لوگوں کی ہجرت (۲) شہری لوگوں کی ہجرت۔ دیہاتی کی ہجرت یہ کہ جب اسے امیر کی طرف سے حکم دیا جائے تو وہ اسے تسلیم کرے اور جب اسے بلایا جائے تو بلاوے کا جواب دے‘ رہا مسئلہ شہری کی ہجرت کا تو اس کی مصیبت و آزمائش زیادہ سخت اور اجر عظیم ہے۔