حدیث نمبر: 10628
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ امور کو چھوڑ دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِمبارک میں صحابۂ کرام نے اپنے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر، خاص طور پر مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ لیکنیاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10628
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 756، وابن ماجه: 1421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»