الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاخْتِيَارِهِ أَبَا بَكْرٍ رضي الله عنه لِيَكُونَ رَفِيقَهُ فِي الْهَجْرَةِ وَتَجْهَيْزِ هِمَا لِذلِكَ وَخُرُوجِهِمَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَنْ دَخَلَا غَارَ ثَوْرٍ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَالَهُ كُلَّهُ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَتْ وَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ قَالَتْ قُلْتُ كَلَّا يَا أَبَتِ إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا قَالَتْ فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَتَرَكْتُهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كَوَّةٍ بِبَيْتٍ كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ ضَعْ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ قَالَتْ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ قَدْ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا فَقَدْ أَحْسَنَ وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا وَلَكِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ۔ سیدہ اسماء بنت بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نکل پڑے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال اپنے ساتھ اٹھا لیا، وہ پانچ چھ ہزار درہم تھا، وہ اپنا سارا مال اپنے ساتھ لے گئے، اُدھر جب ہمارا دادا ابو قحافہ ہمارے پاس آیا، وہ نابینا ہو چکا تھا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے تم کو اپنے مال و جان کے ذریعے تم کو تکلیف دی ہے، میں نے کہا: ہر گزنہیں، اے ابو جان! وہ ہمارے لیے بہت مال چھوڑ گئے ہیں، پھر میں نے پتھر پکڑے اور ان کو گھر کے اس روشندان میں رکھا، جہاں میرے باپ اپنا مال رکھتے تھے، پھر میں نے ان پر کپڑا رکھا اور پھر اپنے دادے کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابو جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھو، پس انھوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو انھوں نے بہت اچھا کیا ہے، اس سے تمہاری گزر بسر ہوتی رہے گی۔سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نہیں،اللہ کی قسم! سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا،اس کاروائی سے میرا ارادہ یہ تھا کہ اس بزرگ کو اطمینان ہو جائے۔
تین دن غارِ ثور میں قیام کیا، پھر سوموار کی رات ربیع الاول ۱ھکی چاند رات، رہنما عبد اللہ بن اُرَیقط لیثی، وعدے کے مطابق سواریاں لے کر جبل ثور کے دامن میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوچ فرمایا، راہنما پہلے جنوب کی جانب یمن کے رخ پر دور تک چلا، پھر پچھم (مغرب) کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا، ساحل کے قریب پہنچ کر شمال کی طرف مڑ گیا اور ایک ایسے راستے پر چلا، جس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔