الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ تَأَمرِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ عَلَى قَتْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِالْهَجْرَةِ باب: قریشیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
عَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَبِسَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پہنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو گئے، مشرک لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، اُدھر سے جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، جبکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بئر میمون کی طرف نکل گئے ہیں، تم ان کو جا ملو، پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اُدھر چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارے جاتے تھے، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتھر مارے جانے لگے، لیکن وہ تکلیف سے تڑپ اٹھتے تھے اور انھوں نے اپنے سر پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا، انھوں نے سر کو باہر نہ نکالا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر جب انھوں نے سر سے کپڑا اتارا تو مشرکوں نے کہا: بیشک تو گھٹیا درجے کا ہے، جب ہم تیرے ساتھی کو مارتے تھے تو وہ نہیں تڑپتے تھے اور تو تڑپ اٹھتا تھا، ہم پہلے سے اس چیز کا انکار کر چکے ہیں (یعنی ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ یہ سونے والا آدمی محمد نہیں ہے)۔