حدیث نمبر: 10602
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ الْعَقَبَةَ الْأُولَى وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ الْحَرْبُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيهِ فِي مَعْرُوفٍ فَإِنْ وَفَيْتُمْ فَلَكُمُ الْجَنَّةُ وَإِنْ غَشِيتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأَمْرُكُمْ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَكُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیعت ِ عقبہ اولی میں موجود تھا، ہم کل بارہ مرد تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان امور پر بیعت کی، جن امور کا ذکر عورتوں کی بیعت میں ہے، یہ بیعت لڑائی اور جہاد فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی، ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، بہتان گھڑ کر نہیں لگائیں گے اور نیکی کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے، اگر تم نے یہ بیعت پوری کر دی تو تمہارے لیے جنت ہو گی اور اگر تم نے کسی چیز میںمخالفت کر دی تو تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گا، وہ چاہے تو تم کو عذاب دے اور چاہے تو تم کو بخش دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10602
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 3893، 6873، ومسلم: 1709 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23134»