حدیث نمبر: 10598
عَنْ أَشْعَثَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد معتدل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال بھرپور تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10598
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16720»