الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَرْضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهُ الْكَرِيمَة عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي مَوَاسِمِ الْحَجُ بمِنِّي فِي مَنَازِلِهِمْ عَلَى أَنْ يَأْوُوهُ وَيَنْصُرُوهُ ويَسْتَعُوهُ مِمَّنْ كَذَبَهُ وَخَالَفَهُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ أَيْضًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَذْكُرُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى الْمَنَازِلِ بِمِنًى وَأَنَا مَعَ أَبِي غُلَامٌ شَابٌّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَقُولُ الَّذِي خَلْفَهُ إِنَّ هَذَا يَدْعُوكُمْ إِلَى أَنْ تُفَارِقُوا دِينَ آبَائِكُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے ۔