الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ حِجَابُهُ النَّارُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ {نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [النمل: 8]۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازو کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے: {اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے
ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹)
یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔
جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔
ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔