حدیث کتب › الفتح الربانی › كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم
الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10590
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ قَالَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت اس اعتبار سے واضح ہے کہ سورۂ نجم کی آیات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رؤیت سے نہیں ہے، ان آیات کے مصداق جبریل علیہ السلام ہیں۔