حدیث نمبر: 10589
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا عَامِرٌ قَالَ أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ قَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} [الأنعام: 103] {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الشورى: 51] وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} [لقمان: 34] وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: 67] وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۔ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہِ مَآ اَوْحٰی۔} … پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ (سورۂ نجم: ۸، ۹، ۱۰)؟ سیدہ نے کہا: اس میں تو جبریل علیہ السلام کا ذکر ہے، وہ مردوں کی صورت میں آتے رہتے تھے، اس بار وہ اپنی اصل شکل میں آئے اور آسمان کے افق کو بھر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10589
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 4612، 4855، 7380، 7531، ومسلم: 177، 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24731»