الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ قَالَ عَنْ أَيِّ شَيْءٍ قُلْتُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ قَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ يَعْنِي عَلَى طَرِيقِ الْإِيجَابِ۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔
قاضی عیاض نے کہا: لیکنیہ الفاظ نہ ہم تک پہنچے ہیں اور نہ میں نے ان کو اصول میں دیکھا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: یہ تصحیف ہیں۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ حدیث دو جملوں پر مشتمل ہے، ایک نُوْرٌ اور دوسرا أَنّٰی اَرَاہ، امام نووی نے (شرح صحیح مسلم: ۳/ ۱۲) میں کہا: تمام رواۃ نے تمام اصول اور روایات میں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور اس کا معنییہ بنتا ہے کہ اس کا پردہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
یہ معنی درج ذیل حدیث کی روشنی میں کیا گیا ہے: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ مَا انْتَہٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ۔)) … اس اللہ کا پردہ نور ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ساری مخلوقات کو جلا دیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹)
مازری نے کہا: اَرَاہُ میں ہ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا معنییہ ہے کہ نور نے مجھے اللہ کی رؤیت سے روک دیا، جیسا کہ عام عادت بھییہی ہے کہ نور آنکھوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور دیکھنے والے اور دوسری چیز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
ابن قیم نے ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کا معنییہ ہے کہ وہاں نور تھا، جو رؤیت کے سامنے حائل ہو گیا، پس میں اس کو کیسے دیکھ سکتا، اس معنی پر دلالت کرنے والے بعض روایات کے الفاظ بھی موجود ہیں، مثلا ایک روایت میں ہے: ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ (کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا فرمایا: ((رَاَیْتُ نُوْرًا)) … میں نے تو نور دیکھا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ نے بہت سارے لوگوں کو پریشان کر دیا، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کی تصحیف کرتے ہوئے ان کو نُوْرانِّیْ اَرَاہ پڑھ دیا اور اس حدیث کی عبارت کو ایک جملہ بنا دیا، جبکہ یہ لفظی طور پر بھی غلطی ہے اور معنوی طور پر بھی۔ مزید آپ زاد المعاد: ۳/ ۳۷ اور مجموع الفتاوی: ۳/ ۳۸۶۔ ۳۸۹ کا مطالعہ کریں۔