الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي أُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِالْإِسْرَاءِ والمعراج باب: اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ فَارْفَضَّ عَرَقًا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسراء والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسا براق لایا گیا، جس پر زین کسی ہوئی تھی اور اس کو لگام ڈالی ہوئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہونے لگے تو وہ براق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکل ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے اس سے کہا: کون سی چیز تجھے ایسا بننے پر آمادہ کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم ہے، تجھ پر کبھی بھی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ عزت والی ہو، پھر شرمندگی کی وجہ سے اس کا پسینہ بہہ پڑا۔