حدیث نمبر: 10581
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ فَارْفَضَّ عَرَقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسراء والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسا براق لایا گیا، جس پر زین کسی ہوئی تھی اور اس کو لگام ڈالی ہوئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہونے لگے تو وہ براق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکل ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے اس سے کہا: کون سی چیز تجھے ایسا بننے پر آمادہ کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم ہے، تجھ پر کبھی بھی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ عزت والی ہو، پھر شرمندگی کی وجہ سے اس کا پسینہ بہہ پڑا۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، انبیائے کرام میں سب سے زیادہ افضل اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3131، وانظر الحديث رقم (10321) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12701»