الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ طُولِ الْقِيَامِ وَكَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ قُلْتُ لِأَصْحَابِي: تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّلْتُ فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ))مخارق کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے نکلے، جب ربذہ مقام پر پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم آگے چلو، میں خود پیچھے رہ گیا، پس میں سیدنا ابو ذر ؓکیا پاس گیا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ لمبا قیام کرتے اور کثرت سے رکوع و سجود کرتے، جب میں نے ان سے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے عمل کو اچھا بنانے میں کوئی کمی نہیں کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رکوع کیا، یا سجدہ کیا، اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور ایک گناہ مٹا دیا جائے گا۔