الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ فِي ذِكْرِ مَنْ رَآهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ وَالْمِعْرَاجِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَآخَرِينَ مِنَ الكُفَّارِ وَالْمُدْيَبِينَ وَصِفَةِ بَعْضِهِمْ باب: ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَصَعَدْتُ قَدَمَيْ (وَفِي نُسْخَةٍ وَضَعْتُ قَدَمَيْ) حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَعُرِضَ عَلَيَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ قَالَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُرِضَ عَلَيَّ مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَعُرِضَ عَلَيَّ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ أَقْرَبُ النَّاسِ شَبَهًا بِصَاحِبِكُمْ))۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے بیت المقدس میں اپنا قدم وہاں رکھا، جہاں انبیاء کے قدم رکھے جاتے تھے، پس مجھ پر عیسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، پھر مجھ پر موسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ معتدل وجود کے آدمی تھے اور وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، بعد ازاں ابراہیم علیہ السلام کو مجھ پر پیش کیا گیا، وہ لوگوں میں تمہارے اپنے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔