الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ اِنْکَارِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ صَلَاةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَيْتِ الْمَقْدَسِ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ باب: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ مُنْتَهَى طَرَفِهِ فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبْرِيلُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَفُتِحَتْ لَنَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ)) قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ زِرٌّ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَدْ صَلَّى قَالَ حُذَيْفَةُ مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ فَقُلْتُ أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى قَالَ فَقَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} قَالَ فَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ زِرٌّ وَرَبَطَ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ قَالَ حُذَيْفَةُ أَوَ كَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَبَ مِنْهُ وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بِهَا))۔ (دوسری سند) سیدنا زِرّ بن حبیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق کو لایا گیا،یہ سفید رنگ کا لمبا سا جانور تھا، اپنے منتہائے نگاہ تک اپنا قدم رکھتا تھا، میں اور جبریل اس کی کمر سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ میں بیت المقدس آیا اور پھر ہمارے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، جبکہ سیدنا زِرّ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او گنجے! تیرا نام کیا ہے، میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، البتہ تیرے نام کی پہچان نہیں ہے، میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} انھوں نے کہا: تو اس آیت میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہوتی تو تم کو بھی وہاں نماز ادا کرنا پڑتی، جیسا کہ تم مسجد ِ حرام میں نماز پڑھتے ہو، سیدنا زِرّ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو اس کنڈے کے ساتھ باندھا تھا، جس کے ساتھ انبیائے کرامR باندھتے تھے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھاگ جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا۔