حدیث نمبر: 1057
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْءٍ، قُلْنَا: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1057
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن خزيمة: 1154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4199»