حدیث نمبر: 10566
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلْؤُهُ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشَقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِي الْبَطْنِ فَغُسِلَ الْقَلْبُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَقِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (تیسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بیت اللہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ تین میں ایک آدمی دو افراد کے درمیان متوجہ ہوا، پھر میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا، وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پس اس فرشتے نے میرے گلے سے پیٹ کے نیچے والے نرم مقام تک کے حصے کو چاک کر دیا، میرے دل کو زمزم کے پانی کے ساتھ دھو کر اس میں حکمت اور ایمان کو بھر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا تھا اور گدھے سے بڑا تھا، پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، ہم آسمانِ دنیاتک جا پہنچے، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہاگیا: تیری ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: ان کو خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، … … ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10566
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17987»