الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةً رضی اللہ عنہما باب: اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ رضی اللہ عنہما کی روایات کا بیان
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ لَنَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَى سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيلَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقُلْتُ لَقَدِ اخْتَلَفْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ لَا وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ قَالَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ نُودِيتُ أَنِّي قَدْ خَفَّفْتُ عَلَى عِبَادِي وَأَمْضَيْتُ فَرَائِضِي وَجَعَلْتُ لِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا))۔ (دوسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ کسی بات کرنے والے کی یہ آواز سنی: ان تینوں میں سے ایک ہے، … … ، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشے داخل ہوتے ہیں اور جب وہ نکل جاتے ہیں تو آخرتک دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر میرے لیے سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، … … ، میں نے کہا: میں اپنے ربّ کے پاس اتنی بار جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے، اب میں نہیںجاؤں گا، بلکہ میں راضی ہوتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں، پھر جب میں موسی علیہ السلام سے آگے کو گزرا تو مجھے یہ آواز دی گئی: بیشک میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے اور اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے اور ہر نیکی کا دس گناہ اجر وثواب کر دیا ہے۔