الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَهَابِهِ ﷺ إِلَى الْطَائِفِ لَمَّا اشْتَدَّ عليه إيذاء قريش بَعْدَ مَوْتِ عَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ مسْتَنْجِدًا وَرَدَهُمْ عَلَيْهِ أَسْوَأَرَدٍ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ردّ کر دیا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرِقِ ثَقِيفٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ يَبْتَغِي عِنْدَهُمُ النَّصْرَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ} حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ فَوَعَيْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَدَعَتْنِي ثَقِيفٌ فَقَالُوا مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ مَا يَقُولُ حَقًّا لَتَبِعْنَاهُ۔ سیدنا خالد عدوانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو ثقیف کی مشرقی جانب میں دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے آئے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} والی سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو مکمل کیا، میں نے دورِ جاہلیت میں شرک کی حالت میں بھی یہ سورت یاد کی تھی، اور پھر مشرف باسلام ہو کر بھی اس کی تعلیم حاصل کی تھی، بنو ثقیف نے مجھے بلایا اور کہا: تو نے اس آدمی کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواباً ان کو سورۂ طارق سنائی، لیکن ان کے پاس موجود قریشی لوگوں نے کہا: ہم اپنے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو زیادہ جانتے ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس کی بات حق ہے تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔