حدیث نمبر: 10562
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرِقِ ثَقِيفٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ يَبْتَغِي عِنْدَهُمُ النَّصْرَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ} حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ فَوَعَيْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَدَعَتْنِي ثَقِيفٌ فَقَالُوا مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ مَا يَقُولُ حَقًّا لَتَبِعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا خالد عدوانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو ثقیف کی مشرقی جانب میں دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے آئے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} والی سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو مکمل کیا، میں نے دورِ جاہلیت میں شرک کی حالت میں بھی یہ سورت یاد کی تھی، اور پھر مشرف باسلام ہو کر بھی اس کی تعلیم حاصل کی تھی، بنو ثقیف نے مجھے بلایا اور کہا: تو نے اس آدمی کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواباً ان کو سورۂ طارق سنائی، لیکن ان کے پاس موجود قریشی لوگوں نے کہا: ہم اپنے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو زیادہ جانتے ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس کی بات حق ہے تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … ثقیف کا تعلق ہوازن قبیلہ سے تھا اور یہ بنو ثقیف قبیلے کا بڑا باپ تھا، ا س قبیلے کا مسکن طائف تھا، جب قریشیوں نے ابو طالب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت اذیتیں پہنچائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے گفتگو کی اور اس کام میں دس دن گزار دیے، لیکن کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہ مانی، بلکہ یہ کہا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور اپنے بچوں، اوباشوں اور غلاموں کو شہ دے دی، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوںجانب لائن لگا کر گالیاں دینی اور بدزبانی کرنی شروع کی، پھر پتھر برسانے لگے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑیاں اور پاؤں زخمی ہو گئے اور جوتے خون سے تر ہو گئے، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ آپ کو بچاتے رہے اور ان کے سر پر بھی کئی زخم آ گئے اور سفاکی کا یہ سلسلہ یہاں تک جاری رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عتبہ اور شیبہ فرزندانِ ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینا پڑی، باقی اگلی حدیث کے فوائد میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10562
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن خالد العدواني، وتفرد به عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، وھو ضعيفيعتبر به في الشواھد والمتابعات، ولم يتابعه احد ھنا، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 3/ 138، وابن خزيمة: 1778، والطبراني في الكبير : 4126 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19166»