حدیث نمبر: 10561
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشَّدْقَيْنِ قَالَتْ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ وَعِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ کی سرخ باچھوں سے مراد یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئی تھیں،یہاں تک کہ ان کے دانت گر گئے تھے اور اس وجہ سے منہ میں سفیدی ختم ہو گئی تھی اور بس مسوڑھوں کی سرخی باقی رہ گئی تھی، جواباً نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ کو بے مثال ام المؤمنین قرار دیتے ہوئے ان کے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار سیدہ کے عظیم کارنامے تھے۔
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25725»