حدیث نمبر: 10560
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ قَالَتْ فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قَالَ مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2437 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25376»