حدیث کتب › الفتح الربانی › كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم
الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ خَدَيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا وَهِيَ أَوَّلُ نَفْسٍ آمَنَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَتُهُ باب: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی
حدیث نمبر: 10558
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَاء ِ الْعَالَمِینَ مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَفَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) … جہانوں کی خواتین میں چار عورتیں تجھے کافی ہیں: مریم بنت عمران، خدیجہ بنت ِ خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسیہ، جو کہ فرعون کی بیوی تھیں۔
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹