حدیث نمبر: 10555
عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ يَعْلَى وَقَالَ مَرَّةً لَا صَخَبَ أَوْ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ خدیجہ کے جنت والے گھر کی صفات بھی بیان کر دی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1792، ومسلم: 2433 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19356»