حدیث نمبر: 10549
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمُّكَ أَبُو طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْفَعُكَ قَالَ إِنَّهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ لَوْلَا أَنَا كَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا چچا ابو طالب آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کو فائدہ پہنچاتا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے وہ ٹخنوں تک پہنچنے والی آگ میں ہو گا، اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میںہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … شریعت کا عام قانون یہی ہے کہ روزِ قیامت کسی کافر کے حق میں کوئی سفارش قبول نہیں ہو گی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے کہ ابو طالب کے حق میں ان کی سفارش قبول ہو گی، جس کی وجہ سے سخت عذاب کی بجائے ہلکا عذاب ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6208، 6572، ومسلم: 209، 359 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1763»