حدیث نمبر: 10546
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ آتَيْتُهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِدَعْوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا قَالَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا اغْتَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب ابو طالب فوت ہوا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جا کر اس کو دفنا دے اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس آجانا۔ پس میں نے اس کو دفن کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جا اور غسل کر اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس پہنچ جا۔ پس میں غسل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی دعائیں کیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ ان کی بجائے مجھے سرخ اور سیاہ اونٹ مل جائیں، اس کے بعد جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ میت کو غسل دیتے تو اس سے خود غسل کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه النسائي: 1/ 110 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1074»