حدیث نمبر: 10544
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ فَقَالُوا إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا قَالَ مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمُ الْجِزْيَةَ قَالَ مَا هِيَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَامُوا فَقَالُوا أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا قَالَ وَنَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: 5] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ثَنَا عِبَادٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُّ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب بیمار ہو گیا اور قریشی اس کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کی تیمار داری کرنے کے لیے پہنچ گئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، اتنے میں ابو جہل کھڑا ہو اور اس جگہ پر بیٹھ گیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ابو طالب! تیرایہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! میں ان سے ایسا کلمہ پڑھوانا چاہتا ہوں کہ جس کے ذریعے عرب ان کے ماتحت ہو جائیں گے اور عجم ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: کیا اس نے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ پھر یہ قرآن نازل ہوا: ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میںپڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انھوں نے ہر چند چیخ و پکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر بہت جھوٹا ہے، کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا ہے، واقعییہ بہت ہی عجیب بات ہے۔(سورۂ ص: ۱ تا ۵)

وضاحت:
فوائد: … ابو طالب کی وفات رجب یا رمضان ۱۰؁نبوتمیں ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10544
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،يحييٰ بن عماره في عداد المجھولين، أخرجه الترمذي: 3232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2008»