حدیث نمبر: 10532
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [سورة القمر: 1-2]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک نشانی کا سوال کیا، جواباً چاند پھٹ گیا،یہ واقعہ مکہ میں دو بار پیش آیا، پس اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا،یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آ رہا جادو ہے۔ (سورۂ قمر: ۱ ، ۲)

وضاحت:
فوائد: … کئی آیات میں یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ قیامت قریب ہے اور دنیا ختم ہونے والی ہے، جیسے سورۂ قمر کی پہلی آیت میںکہا جارہا ہے۔
اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے، لیکن ایمان لانے کے بجائے ان کا جواب یہ تھا کہ ان آنکھوں پر جادو ہو گیا ہے، یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور کافی احادیث میں اس واقعہ کا ذکر اور تفصیل موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3637، 4867، ومسلم: 2802 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»