الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْذِيبِهِم الْمُسْتَضْعَفِينَ وَضَرْبِهِمْ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَسَبِّهِ باب: مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أَقْضِيَنَّكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنِّي إِذَا مِتُّ ثُمَّ بُعِثْتُ وَلِيَ ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ) قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [سورة مريم: 77] حَتَّى بَلَغَ {فَرْدًا} [سورة مريم: 80]۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰)
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہ جس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔