حدیث نمبر: 10529
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ بِأَيْمَنَ وَفِئَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسُونَ فَدَعُوهُمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ وَكُنْتُ أَنَا وَرَاءَ الْحُجْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبِلَاءٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میں کہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا نام برکت تھا، یہ حبشن تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کی لونڈی تھیں،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود کھلایا کرتی تھیں، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دورِ نبوت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایمان لائیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کی تھی، ان ہی سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تھے،سیدہ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پانچ چھ ماہ بعد فوت ہو گئیں، روایت میں مذکورصحابی سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ ان ہی کا بیٹا تھا، یہ غزوۂ حنین میں شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 1540، والبيھقي في شعب الايمان : 7763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17863»