الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْذِيبِهِم الْمُسْتَضْعَفِينَ وَضَرْبِهِمْ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَسَبِّهِ باب: مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَا لَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔