حدیث نمبر: 10527
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنْهُ شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … قریشی کفار چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ نام ہی ذکر نہیں کرتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح لازم آتی تھی، لیکن جب اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسرا نام لیتے تھے، تو وہ سرے سے آپ کا نام ہی نہیں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3533 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7327»