حدیث نمبر: 10526
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ) ثُمَّ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرُ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ ثُمَّ قَالَ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، … … ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے باپ (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور ان کو بخش دیا۔ سیدنا عمار کے والد مکرم کا نام یاسر اور والدہ ماجدہ کا نام سمیہ بنت خیاط تھا، دنیا کییہ اذیتیں جس قدر تکلیف دہ تھیں، اتنا ہی اللہ تعالیٰ نے بہترین صلہ دیا اور چند دنوں کی آزمائشوں کے عوض ہمیشہ کی زندگی کو پرسکون بنا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10526
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، سلم بن ابي الجعد لم يدرك عثمان بن عفان، وفي الباب ما يشھد لقوله اصبر اللھم اغفر لآل ياسر ، أخرجه ابن سعد: 3/ 248 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 439»