الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْذِيبِهِم الْمُسْتَضْعَفِينَ وَضَرْبِهِمْ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَسَبِّهِ باب: مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ) ثُمَّ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرُ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ ثُمَّ قَالَ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، … … ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے باپ (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔