الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
ومنهم عقبة بن أبي معيط باب: اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفَنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوَّى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [سورة غافر: 28]۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا: تم مجھے یہ بتلاؤ کہ سب سے بڑی ایذا کون سی ہے، جو مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کو پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس کوبل دیئے اور سختی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاگلا دبایا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے، انھوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا اور کہا: کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہے۔