حدیث نمبر: 10521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ (أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ) قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ (أَوْ أُبَيًّا) انْقَطَعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر پھینک دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر سے ہٹایا اور یہ کام کرنے والوں کے لیے بد دعا کی، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں اِن پر دعا کی: اے اللہ! قریشیوں کے سرداروں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابو معیط اور امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) کی گرفت فرما۔ پس میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر والے دن ان کو قتل کیا گیا اور پھر کنویں میں ڈال دیا گیا، ما سوائے امیہیا ابی کے، اس کے جوڑ اکھڑ گئے تھے، اس لیے اس کو کنویںمیں نہیں ڈالا گیا۔
حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق)

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی بعض روایات (۵۲۰) میں ہے: جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کاروائی کی تو وہ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، … جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس مواد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا تووہ ان پر متوجہ ہوئیں اور ان کو برا بھلا کہا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بد دعا کی، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا سنی تو وہ خاموش ہوگئے اور وہ ڈر گئے۔
امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) یہ امیہ بن خلف ہی تھا،جو غزوۂ بدر میں قتل ہوا، اس کا بھائی ابی بن خلف تو غزوۂ احد میں قتل ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا پوری ہوئی اور ان سب سرداروں کو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہونا پڑا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10521
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3854، ومسلم: 1794 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3722»