الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
ومنهم ابو جهل باب: اور ان میں ایک ابو جہل تھا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ قَالَ فَقَالَ ((لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا))۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اس بات پر فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ لیتے، اگر یہودیوں نے موت کی تمنا کی ہوتی تو وہ واقعی مر جاتے اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتے اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مباہلہ کرنے والے نکلتے تو وہ اس حال میںلوٹتے کہ ان کا مال ہوتا اور نہ اہل و عیال۔
یہودیوں کا موت کی تمنا کرنا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْم’‘ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} … کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمھارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔اور وہ ہر گز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۴، ۹۵)
اور مباہلہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔} … پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آؤ! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ (سورۂ آل عمران: ۶۱)
یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے، مباہلہ کا معنییہ ہے: دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعا کرنا، مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقوں میں سے کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف و نزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہوتو دونوں بارگاہِ الہی میں یہ دعا کریںکہیا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر لعنت فرما۔