حدیث نمبر: 10517
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ آلِهَةِ آبَائِكُمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ عَلَى أَثَرِهِ وَنَحْنُ نَتْبَعُهُ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَحْوَلَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ أَبْيَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (چوتھی سند) سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابو لہب کو عکاظ میں دیکھا، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیچھا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ شخص خود بھی گمراہ ہو گیا ہے اور تم کو بھی اپنے آباء کے معبودوں سے گمراہ کرنا چاہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے آگے کو بھاگ جاتے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پہنچ جاتا، ہم لڑکے بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے، گویا کہ میں اب بھی ابو لہب کی طرف دیکھا رہا ہوں، وہ بھینگی آنکھ اور دو چٹیوں والا تھا اور لوگوں سے سب سے زیادہ سفید رنگ والا اور سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ابو لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا، اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب اورکنیت ابو عتبہ تھی، اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابو لہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16116»