الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ فِي أَمْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ نَيَّهُ الله بِاظْهَارِ الدَّعْوَةِ والصدع بها وَمَا لَا قَاهُ مِنْ إِبْدَاءِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ لَهُ وتعديهم المُسْتَضْعَفِينَ مِمَّنْ أَسْلَمُوا مَعَهُ باب: اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَصَعِدَ عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَى يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي لُؤَيٍّ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ)) فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ}۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: بقیہ دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔
ابو لہب اور اس کی بیوی، دونوں بد نصیب تھے، سورۂ لہب میں ان کی ہلاکت بیان کی گئی ہے۔
ابولہب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بدترین دشمن تھا، ہر وقت ایذاء دہی تکلیف رسائی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا، اگلا باب ملاحظہ فرمائیں۔
دنیا میں اس بد بخت کی ہلاکت یوں ہوئی کہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کو موت واقع ہو گئی، تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتی کہ سخت
بدبودار ہو گئی، بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔