الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابٌ فِي بَدا الْوَحْيِ وَكَيْفَ كَانَ يَأْتِيهِ وَرُؤْيَتِهِ ﷺ لِجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ باب: وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ۔ سیدنا علییا سیدنازبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں اور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔