حدیث نمبر: 10494
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [سورة المدثر: 1-4]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔

وضاحت:
فوائد: … جمہور اہل علم کے نزدیک پہلی وحی {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ } والی آیات ہی ہیں، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے مراد دوسری وحی ہے، جو فترۂ وحی کے بعد نازل ہوئی تھی، اس حدیث کے درج ذیل سیاق پر غور کریں: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فترۂ وحی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَا أَنَا أَمْشِی إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاء ِ فَرَفَعْتُ بَصَرِی فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَاء َنِی بِحِرَاء ٍ جَالِسٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْہُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَی {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ … إِلٰی قَوْلِہِ … وَالرُّجْزَ فَاہْجُر} فَحَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔ … ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حراء میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں گھبرا گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے لپیٹ دو،چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثَیَابَکَ فَطَھِّرْوَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے
نازل ہونے لگی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) حافظ ابن کثیر نے کہا کہ یہی سیاق محفوظ ہے، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4922، ومسلم: 161 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14338»