الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابٌ فِي بَدا الْوَحْيِ وَكَيْفَ كَانَ يَأْتِيهِ وَرُؤْيَتِهِ ﷺ لِجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ باب: وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنَّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام مسلم نے اس باب میں کل تین روایات ذکر کی ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے (اور مکہ میں دس برس قیام کیا)۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر پینسٹھ برس تھی (اور مکہ میں پندرہ سال قیام کیا)۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی (اور مکہ میں تیرہ سال قیام کیا)۔
آخری روایت زیادہ صحیح اور مشہور ہے، امام مسلم نے اس روایت کو سیدہ عائشہ، سیدنا انس اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بیان کیا۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ صحیح ترین روایت تریسٹھ برس عمر والی ہے، انھوں نے باقی روایات کی توجیہ کی ہے، ساٹھ برس والی روایت کے بارے میں کہا کہ اس میں دہائیوں کا اعتبار کیا اور اکائیوں کو چھوڑ دیا (اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں)، اسی طرح پینسٹھ برس والی روایت کی بھی توجیہ کی جائے گی۔
یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اختلاف صرف مکہ میں قیام کی مدت میں ہے، راجح اور صحیحیہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ برس قیام کیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک (۶۳) برس بنتی ہے۔